Zawal Sey Urooj Tak

مزید پڑھئیے

زوال سے عروج تک ؟؟
اہل حق اہل سنت و جماعت کو جماعتی انتشار و افتراق سے بچانا اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کیونکہ جو قومیں داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں وہ کبھی بھی زوال سے عروج کی طرف نہیں نکل سکتی۔عروج کی طرف جانا ہے تو داخلی انتشار و افتراق کو مٹانا ہے ۔اس کے لئے قانون و اصول یہی ہے کہ جو جو بھی مذہب اہل سنت کے اصولی مسائل(ضروریات دین و ضروریات مذہب اہل سنت)میں اختلاف نہیں رکھتا وہ ہمارا ہے اور جو ان میں سے کسی ایک کا بھی منکر ہے وہ ہمارا نہیں۔
(ضروریات دین سے مراد وہ باتیں ہیں جن میں سے کسی ایک کا بھی انکار کفر ہو ،جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا،اور ضروریات مذہب اہل سنت سے مراد وہ باتیں ہیں جن میں سے کسی ایک کا بھی انکار بندے کو گمراہ بنادے جیسے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تمام صحابہ میں سے افضل ہونا۔)
اہم بات:فروعی فقہی مسائل میں اختلاف سے کوئی سنیت سے نہیں نکل جاتا اور نہ ہی ایسے مسائل میں مخالفین پر شدت کرنا جائز ہے ۔جیسے اعلی حضرت علیہ رحمۃ قوالی بالمزامیر کو حرام فرماتے ہیں لیکن اعلی حضرت علیہ رحمۃ کے صاحبزادے حضور مصطفی رضا خآن علیہ رحمۃ نے اپنے فتاوی مصطفویہ کے صفحہ 456 پر اس مسئلہ میں اختلاف کرنے والے علمآء پر فسق و فجور کا فتوی لگانے سے انکار کیاہے چونکہ یہ مسئلہ نہ تو ضروریات دین میں سے ہے اور نہ ہی ضروریات مذہب اہل سنت سے لہذا اس میں یا اس جیسے کسی مسئلہ میں (یعنی جو ضروریات دین یا ضروریات مذہب اہل سنت سے نہ ہو)اختلاف کرنے والے عالم پر فسق و فجور کا فتوی دینا ناجائز ہے ۔۔۔۔۔۔۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply