Ittehad E Ahle Sunnat Par Ubharny Waly Madani Phool

 

خلیفہ و نائبِ مفتی ِ اعظمِ ہند علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
“کسی غیر قطعی مسئلے میں اختلاف ایسی چیز نہیں کہ اگر کوئی نیاز مند انجانے میں یا جان بوجھ کر بھی اختلاف رائے کی جرات کرے تو اس پر اتنا غیظ و غضب فرمایا جائے۔حضرت علامہ صاوی نے تو اس قسم کے اختلاف کو رحمت بتایا ہے۔فرماتے ہیں:
“التفریق المذموم انما ھو فی العقائد لا فی الفروع فانہ رحمۃ للعباد” (ج 1 ص :251)
“اختلاف مذموم صر ف وہ ہے جو عقائد میں ہے فروع میں مذموم نہیں،یہ بندوں کے لئے رحمت ہے۔”””
اور یہی مشہور و معروف حدیث” اختلافُ اُمَّتِی رحمۃ ” کے ظاہر عموم منطوق ہے۔
عہد صحابہ سے لے کر آج تک ہر طبقہ ،ہر قرن،میں اس کی مثالیں ملیں گی کہ اکابر نے اکابر سے ،اصاغر نے اکابر سے اختلاف رائے کیا ہے۔
(فتاویٰ شارح بخاری جلد 1 صفحہ 86 بحوالہ اسلام اور چاند کا سفر صفحہ 8،ملخصاً)

پیشکش: علامہ شان رضا القادری الرضوی

Please follow and like us:
0

Leave a Reply