Ittehad e Ahle Sunnat K Liye Behtareen Usool

سنیوں کو متحد کر دینے والا بہترین اصول
از
“شہزادہ اعلیٰ حضرت کے خلیفہ و نائب حضرت علامہ مولانا مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ
=============
مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:”
“بات یہ ہے کہ جب کسی مسئلے میں خود علمائے اہل سنت میں اختلاف ہو تو یہ درست نہیں کہ ایک دوسرے کو فاسق کہیں،یہاں یہی معاملہ ہےکہ حضرات کچھوچھہ مقدسہ ہمارے معتمد علمائے اہل سنت ہیں وہ مزامیر(Music Instruments) کے ساتھ قوالی کو جائز کہتے ہیں۔”
(فتاوی شارح بخاری جلد 1 صفحہ 76)
سبحان اللہ عزوجل ! کیا ہی بہترین کلام فرمایا ہے نائب مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ نے جس کا صاف و واضح مفہوم یہی ہے کہ جب کسی بھی فقہی مسئلہ میں دونوں طرف علمائے اہل سنت ہوں اور اختلاف ہو جائے تو ہر ایک سنی اپنے اپنے فتوے پر عمل کرے لیکن دوسرے موقف والےکو فاسق نہ کہے ۔
============
مفتی شریف الحق امجدی صاحب کون ہیں یہ بھی ملاحظہ فرما لیں:
============
حضرت علامہ شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ ہند کے بہت بڑے عالم و مفتی ہیں ۔آپ اکابرین اہل سنت میں شمار ہوتے ہیں ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ رحمۃ کے بعد آپ کے فتاوی کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔صاحب بہار شریعت خلیفہ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اور شہزادہ اعلیٰ حضرت مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضاخاں علیہ رحمۃ کو اعلیٰ حضرت نے اپنے زندگی میں ہی قاضی اسلام و مفتی اسلام قرار دیا تھا۔ان دونوں بزرگوں سے فیض یافتہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ ہیں۔14 ماہ تک صاحب بہار شریعت علیہ رحمۃ کی خدمت میں رہ کر فتاوی دیئے اور 11 سال تک آپ نے شہزادہ اعلیٰ حضرت حضورمصطفی رضا خاں علیہ رحمۃ کی خدمت میں رہ کر فتاوی نوریسی کی مشق کی۔حضرت مفتی صاحب نے 50 ہزار فتاوی بریلی شریف میں رہ کر دیئے جن میں سے 20 ہزار پر تصدیق حضور مفتی اعظم ہند علیہ رحمۃ کی ہے اسی وجہ سے علامہ صاحب کو نائب مفتی اعظم ہند کہا جاتا ہے ۔
==========
گزارش:
==========
ایسا نہیں ہو سکتا کہ فقہی مسائل میں اختلاف ختم ہو جائے ۔مثلاً ویڈیو کے جائز و ناجائز ہونے کا اختلاف،لاؤڈ سپیکر پر نماز ہونے یا نہ ہونے کا اختلاف، مزامیر(Music Instruments) کے ساتھ حمد یا نعت کا جائز ہونا یا نہ ہونا،سجدہ میں تین انگلیوں کا قبلہ کی طرف کرنے کا واجب ہونا یا نہ ہونا،سیاہ خضاب کا جائز ہونا یا نہ ہونا،ایک مشت داڑھی کا واجب ہونا یا نہ ہونا، وغیرہا ایسے بہت سے مسائل ہیں جن میں علماء اہل سنت کا اختلاف ہے لہذا ان مسائل اور ان جیسے دیگر مسائل میں شدت نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جب آپ اپنے مخالف موقف
والے سنی علماء پر غیر قطعی مسائل میں فسق و فجور کے فتوے لگائیں گے تو لامحالہ ان مخالف موقف والے سنی علماء کے عقیدت مند جواباً آپ حضرات کے خلاف لکھیں گے بولیں گے ،جس سےہم سنی آپسی اختلافات میں الجھ کر رہ جائیں گے ۔اس لئے خدارا ہر سنی بھائی اوربہن مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ کے اس اصول کو ہر وقت سامنے رکھیں ،آپ کو جس بھی عالم کی تحقیق پسند ہواس پر عمل کیجئے لیکن دوسرے عالم کی تحقیق پر عمل کرنے والوں پر زور زبردستی نہ کریں کے وہ بھی آپ والا موقف اپنائیں۔ہاں پیار محبت سے گفتگو کرنے میں حرج نہیں ہر سنی اپنے موقف کی تبلیغ دوسرے سنی سے کر سکتا ہے ۔لیکن زبردستی بالکل بھی نہیں کر سکتا۔
جو حضرات غیر قطعی مسائل میں اختلاف کرنے والے علماء کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں ان کو مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ کا یہ فرمان بھی ذہن نشین کرنا چاہیے۔
” “کسی غیر قطعی مسئلے میں اختلاف ایسی چیز نہیں کہ اگر کوئی نیاز مند انجانے میں یا جان بوجھ کر بھی اختلاف رائے کی جرات کرے تو اس پر اتنا غیظ و غضب فرمایا جائے۔حضرت علامہ صاوی نے تو اس قسم کے اختلاف کو رحمت بتایا ہے۔فرماتے ہیں:
“التفریق المذموم انما ھو فی العقائد لا فی الفروع فانہ رحمۃ للعباد” (ج 1 ص :251)
“اختلاف مذموم صر ف وہ ہے جو عقائد میں ہے فروع میں مذموم نہیں،یہ بندوں کے لئے رحمت ہے۔””””
اور یہی مشہور و معروف حدیث” اختلافُ اُمَّتِی رحمۃ ” کے ظاہر عموم منطوق ہے۔
عہد صحابہ سے لے کر آج تک ہر طبقہ ،ہر قرن،میں اس کی مثالیں ملیں گی کہ اکابر نے اکابر سے ،اصاغر نے اکابر سے اختلاف رائے کیا ہے۔”
(فتاویٰ شارح بخاری جلد 1 صفحہ 86 بحوالہ اسلام اور چاند کا سفر صفحہ 8،ملخصاً)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب سنی صحیح العقیدہ حضرات کو آپس میںاتفاق و اتحاد کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے اورکسی بھی عالم کی توہین و تنقیص سے مرتے دم تک بچائے رکھے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

Please follow and like us:
0

Leave a Reply