Hum Buzurgan e Deen k Tarika Par Hain

ہم بزرگان دین کے طریقہ پر ہیں!!!!
تحریر: علامہ شان رضا القادری الرضوی
یہ وہ جملہ ہے جسے ہر سنی فروعی مسئلہ کے بیان میں استعمال کرتا ہے۔۔۔۔۔لیکن اگر اہل سنت کے فروعی اختلافی مسائل میں اس جملہ کے ساتھ ساتھ یہ جملہ بھی عام ہو جائے کہ اگرچہ میں اس فروعی مسئلہ میں بزرگان دین کے فتوی پر عامل ہوں لیکن میرے مخالف موقف والے سنی بھائی بھی دیگر بزرگان دین کے فتوی و تحقیق پر عامل ہیں تو میرے بھائیو! دیکھنا ایسا فروعی اختلاف اتحاد کے ہرگز منافی نہ ہوگا ۔۔۔بلکہ اتحاد اہل سنت کو فروغ ملے گا ایک دوسرے کی عزت و حرمت کا خیال رکھا جائے گا۔۔۔۔مخالف موقف والے بزگان دین کی تحقیق کی عظمت بھی دل میں ہوگی اور کوئی سخت بات زبان سے نہ نکلے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مثال کے طور پر اگر
ویڈیو کو حرام کہنے والے بھائی یہ کہیں کہ
ہم ویڈیو کے حرام کہنے والے اور ویڈیو کو جائز کہنے والے ہمارے سنی بھائی دونوں بزرگان دین کے طریقہ پر ہیں تو ایسا ہو ہی نہیں سکتاہے کہ اس مسئلہ میں کوئی کسی پر شدت کرے ۔۔۔اور یہ کہنا کچھ غلط بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وضاحت سن لیجئے
ویڈیو کے حرام کہنے والوں میں بلا شک حضرت تاج الشریعہ مفتی اختررضا خان الازھری دامت برکاتھم العالیہ کا نام مبارک سب سے نمایاں ہے ۔۔۔۔اور کوئی شک نہیں کہ یہ ہمارے بڑے ہیں بزرگ ہیں۔۔۔۔۔لیکن انصاف کی عینک ہو گی تو دوسری طرف بھی اکابرین و بزرگان دین کی بڑی تعداد نظر آئے گی ۔۔۔۔۔۔جیسا کہ غزالی زماں رازی دوراں احمد سعید شاہ کاظمی علیہ رحمۃ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مزید مثال بھی پڑھ لیجئے ۔۔۔۔۔۔
قوالی بالمزامیر کو حرام کہنے والے بے شک بزرگان دین کے طریقہ پر ہیں جیسا کہ میرے آقا و مولا سیدی اعلی حضرت علیہ رحمۃ کا موقف بھی یہی ہے کہ قوالی حرام ہے اور بہت بڑی تعداد علماء کی ایسی ہے جو اسی فتوی پر عمل کرتی ہے لیکن یہاں بھی اگر انصاف کی عینک لگائے رکھیں گے تو دونوں اطراف اکابرین و بزرگان دین نظر آئیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مثال کے طور پر
سازوں کے ساتھ قوالی کو جائز کہنے والوں میں بہت بڑا نام عارف باللہ عبد الغنی نابلسی علیہ رحمۃ کا ہے جن کا ذکر خیر بطور تائید اعلی حضرت اپنے فتاوی میں 150 سے بھی زائد مرتبہ کرتے ہیں۔۔۔اور ان کا تذکرہ سیدی وغیرہ کہہ کر کرتے ہیں ۔۔اس کے ساتھ ساتھ اعلی حضرت کے معاصرین سنی بزرگان دین کی بہت بڑی تعداد جیسے کے علماء کچھوچھہ اور مفتی نعیم الدین مراد آبادی کے پیر و مرشد یہاں تک کے اعلی حضرت نے ایسے بزرگ کو بھی خلافت سے نوازا جو قوالی بالمزامیر کے سننے والے تھے اور موجودہ دور میں بھی یہ اختلاف چلا آرہاہے جیسا کہ سید ہاشمی میاں،پیر سید عرفان شاہ مشہدی ،علامہ احمد سعید شاہ کاظمی علیہ رحمۃ وغیرھم ۔۔۔۔۔۔۔
لہذا اس مسئلہ میں بھی دونوں طرف سنی علماء اکابرین و بزرگان دین ہیں تو کیوں ایسا رویہ اپنایا جاتاہے کہ جس میں شدت کا تاثر نمایاں نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
اگر ہم یہ مان لیں کہ قوالی بالمزامیر کے مسئلہ میں بھی دونوں طرف اکابرین علماء ہیں تو ہم کبھی بھی شدت نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔نہ ان بزرگان دین پر نہ ان کے مریدین پر اور نہ ان کی تحقیق پر عمل کرنے والے سنی بھائیوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لہذآ مشورہ ہے کہ فروعی مسائل کا رد کرنا اتنا ضروری نہیں ہے کیونکہ یہ اختلاف جب پیدا ہو چکا تو کبھی ختم نہ ہوگا اس لئے کہ دونوں طرف اکابرین ہیں دونوں طرف کے لوگ عقیدت و تحقیق پر عمل کر رہے ہیں لہذا اپنی توانائی ایسے کام میں خرچ کیجئے جس کا فائدہ بھی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عالمی سطح پر مسلمانوں کو کیا چیلنجز ہیں؟
سیکولر،لبرل،سوشلسٹ یہ کیا نظریات ہیں؟اسلام کو ان سے کس طرح کا خطرہ لاحق ہے ؟
اس کے ساتھ ساتھ مذہب حق اہل سنت و جماعت کو کیا کیا چیلنجز درپیش ہیں؟
کونسے ایسے اصولی نظریات ہیں جن میں عوام کو گمراہ کر کے ان کا منکر بنایا جا رہا؟
اس لئے خدارا فروعی مسائل میں لڑآئی سے نکلیں اور ان اصولی اختلاف میں ملکر کام کرنے کے لئے ہر ایسے سنی سے پیار محبت کا تعلق برقرار رکھیں جو اصولیات میں آپ کے ساتھ ہے اگرچہ فروعات میں آپ سے مختلف ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ وہ سوچ ہے کہ اگر اس پر عمل کر لیا جائے تو کافی حد تک اتحاد اہل سنت و جماعت ہو سکتاہے اور تمام پیران عظام کے مریدین جو اصولیات میں ایک ہیں اپنے فروعی اختلافات کو نظر انداز کرکے ایک جسم ایک جان بن کر دین متین کی خوب خدمت کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اور ان شاء اللہ اگر یہ طریقہ اپنا لیا گیا تو دیکھئے گا کہ فوائد کس قدر تیزی کے ساتھ نظر آتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں اتحاد فرمائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

Please follow and like us:
0

Leave a Reply