Fiqhi Ikhtilafi Masail Mey Shiddat Kaisy Khatam Ho

 

فقہی اختلافی مسائل میں شدت کیسے ختم ہو؟
تحریر: علامہ شان رضا القادری الرضوی عفی عنہ


(اہل سنت و جماعت میں پھیلتی اس غلط روش کہ ’’میرے امام،میرے پیر،میرے مفتی،میرے علامہ غلطی نہیں کرتے‘‘ کے سدباب کی ایک کوشش)
محترم قارئین کرام “خطائے اِجتہادی”کا لفظ آپ نے بھی پڑھا ہوگا یا پڑھا نہیں تو سنا ہوگا اور اگر اس کو دیکھ ہی پہلی مرتبہ رہے ہیں تو آسان لفظوں میں اس

کا مفہوم بیان کر دیتا ہوں کہ
” قرآن و حدیث میں واضح طور پر جب کسی مسئلہ سے متعلق حکم شرعی موجود نہ ہو تو
مُجتَہِد اسلام یا مفتی اسلام اپنے وسیع علم سے اس شرعی مسئلہ کاحکم پیش فرماتا ہے مثلاً یہ کام جائز ہے یا ناجائز ہے یا مکروہ ہے وغیرہ وغیرہ۔لہذا مفتیِ اسلام کی اس مسئلہ کے حکم کو بیان کرنے میں کی گئی اس کوشش کو “اجتہاد “کہتے ہیں ۔اب اگر مفتی اسلام کی یہ کوشش یعنی جو حکم مفتی اسلام نے بیان کیا عند اللہ (یعنی اللہ کے نزدیک) درست نہ ہو تو ایسے میں کی گئی خطاء کو خطائے اجتہادی کہتے ہیں۔”(یاد رہے اگر مسئلہ بیان کرنے میں مفتی اسلام نے پورے خلوص کے ساتھ کوشش کی تو ایسی صورت میں بھی مفتیِ اسلام کو ایک اجر ملتا ہے جبکہ جس کا اجتہاد درست ہو اسے دو گنا اجر ملتا ہے ۔ایک تو کوشش کرنے کا دوسرا صحیح مسئلہ بیان کرنے کا )
اور یہ بھی یاد رہے کہ اجتہاد صرف غیر اصولی (یعنی غیر یقینی )مسائل و نظریات میں ہوتا ہے ۔لہذا ضروریاتِ دین و ضروریات مذہب اہل سنت کو اس بحث سے خارج سمجھیں ہمارا کلام صرف فروعی مسائل میں ہے نہ کہ اصولی و غیر اختلافی میں۔
محترم حضرات ذرا غور فرمائیں کہ جب خوداجتہاد غیر یقینی مسائل میں ہوتا ہے تو پھر اس سے مفتی اسلام کے اجتہاد میں یقینیت کیسے آگئی؟
جب اجتہاد کرنے والا غیر معصوم ہو تو اس کا اجتہاد بھی تو غیر معصومانہ ہوگا یعنی خطا کا احتمال تو بہر حال ہوگا نا؟
اب اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں امام صاحب یا فلاں پیر صاحب یا فلاں مفتی صاحب تو خطا کرتے ہی نہیں ان کی ہر ہر بات ٹھیک ہے تو بتائیں ایسے شخص کی بات کیسے درست مان لی جائے ؟
ہم نے تو کتابوں میں یہاں تک پڑھا ہے کہ خطائے اجتہادی کا امکان نہ صرف صحابہ کے لئے ہے بلکہ خطائے اجتہادی کا وقوع صحابہ سے ثابت بھی ہے ۔اب وہ ایسی کیا خاص بات آگئی موجودہ دور کے ان مفتی ،امام ،یا پیر میں کہ یہ خطائے اجتہادی نہ کریں ؟کیا یہ امام ،پیر ،مفتی ،علامہ صاحب ان صحابہ سے بھی اعلیٰ شان رکھتے ہیں کہ معاذ اللہ ان سے خطا نہ ہو؟میرا تو ایمان ہے کہ جب اس امت کے سب سے بڑے اور اعلیٰ گروہ سے خطائے اجتہادی واقع ہوئی ہے تو بعد میں آنے والوں سے بھی ہوئی ہیں ۔
ارے رکیں برا مت منائیں یہ نظریہ میرا اپنا ذاتی تخلیق کردہ نہیں ہے بلکہ یہ سبق تو مجھے میرے امام بلکہ سنیوں کے سرتاج ، امام اہل سنت مجدد دین و ملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے پڑھایا ہے ۔جی ہاں تو چلیئے آپ کو بھی امام کے کلام سے روشناس کرتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ فرماتے ہیں کہ
“اور کامل حجت اللہ کے لئے ہی ہے ،ہر شہسوار کو گرنا اور ہر تلوار کو کند ہونا ہے اور ہر عالم کو لغزش(خطا) کا سامنا ہے ۔۔امام دارالحجرت عالم مدینہ سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا ہے کہ ہر عالم کا قول ماخوذ بھی ہو سکتاہے(یعنی ان کے قول کو لیا بھی جا سکتاہے ) اور مردود(رد بھی کیا جاسکتا ہے) بھی ماسوائے اس قبر کے مکین صلی اللہ علیہ وسلم کے”
(فتاوی رضویہ جلد ۱۰ صفحہ ۱۹۴)
مزید اس سلسلہ میں رہنمائی فرماتے ہوئے لکھتے ہیں :
“البتہ سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ کا ارشاد کل ماخوذ من قولہ الخ سوائے قرآن عظیم کے سب کتب کو شامل ہے نہ اس سے ہدایہ درمختار مستثنی،نہ فتوحات و مکتوبات و ملفوظات”۔
(فتاوی رضویہ جلد ۲۶ صفحہ ۵۷۷)
جی تو قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرما لیا ہوگا کہ سیدی اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام عشق و محبت علیہ رحمۃ کی تعلیم ہم سنیوں کو کیا ہے ؟جی ہاں آپ صحیح سمجھے یہ سیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ذات گرامی ہے کہ جن کی ہر بات کو لیا ہی جاتا ہے رد نہیں کیا جاتا۔باقی کوئی عالم کیسا ہی ذی مرتبہ کیوں نہ ہوچونکہ وہ غیر معصوم ہے لہذا اس کی بات کو لیا بھی جاتا ہے اور رد بھی کیا جاتاہے ۔کیونکہ دوسرے ارشاد میں اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ نے غیر معصوم لوگوں کی لکھی گئی ہر کتاب کو امام مالک کے اس فرمان کا مصداق ٹھرایا ہے کہ قرآن کے علاوہ باقی جتنی بھی کتب ہیں ان سب کی کچھ باتوں کو لیا بھی جاتا ہے اور کچھ کا رد بھی کیا جاتا ہے لیکن قرآن ایک واحد کتاب ایسی ہے جس کی ہر بات کو لیا ہی جاتاہے رد نہیں کیا جاتا۔
کیونکہ ان علماء و مفتیان کی بات کو اسی لئے تو مانا جاتاہے کہ وہ شرعی حکم بیان کر رہے ہیں لہذا جب یہ حضرات شرعی حکم بیان کرنے میں ہی خود لغزش کا شکار ہو جائیں تو ہمیں تو شریعت کی اتباع کا حکم ہے لہذا ہم ان عالم یا مفتی کے قول کو چھوڑ کر راجح(زیادہ درست) موقف کو اپنا لیں گے ۔لیکن خیال رہے یہ رہنمائی ہمیں کوئی دوسرا عالم ،مفتی ،فقیہ یا مجتہد کرائے گا اپنے طور پر عوام کا کسی بھی فقیہ کو غلط کہہ دینا سخت ناجائز کام ہے کیونکہ یہ علمی اختلاف علمی دلائل پیش کرنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے ،اور علمی دلائل سے واقف وہی شخص ہوگا جو دینی علوم سیکھا ہو نہ کے وہ شخص جسے نماز کے مسائل بھی صحیح طرح نہیں آتے ۔لہذا ہو نہ ہو عامی شخص کا ایک فقیہ سے اختلاف محض نفسانی خواہش کی بنا پر ہوگا۔جو کہ گمراہی کی طرف لے جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے برے فعل سے بچائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
گزارش:
اے میرے بھولے بھالے سنیو!کیا آپ اب بھی ہوش میں نہیں آئیں گے ؟ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنے پیر ،اپنے امام اپنے مفتی اپنے علامہ ،اپنے استاذ کو غلط کہیں لیکن کم از کم ان کے غلطی پر ہونے کے احتمال کو تو مانیں اور یہ نظریہ بنا لیں کہ میں جن کے فتوے پر عمل کر رہا ہوں میرے نزدیک اگرچہ یہ درست ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ اللہ کے نزدیک یہ موقف درست نہ ہو اور میرے مخالف موقف والے عالم و مفتی اسلام کا موقف درست ہو ۔(کیونکہ ہم گفتگو ہی اجتہادی مسئلہ کے بارے میں کر رہے ہیں اور جیسا کہ بیان ہوا کہ اجتہادی مسئلہ کا حکم مفتی کی محنت کا نتیجہ ہوتا ہے یہ قرآن و حدیث کے واضح احکام کی طرح نہیں ہو سکتاکہ اس میں اختلاف نہ ہو سکے کیونکہ وہاں غلطی کا احتمال نہیں جبکہ یہاں احتمال ہے ) جب یہ چیزآپ کے ذہن میں آگئی تو مخالف موقف والے عالم و مفتی و امام کی عزت و حرمت وعظمت خود باخودآپ کے دل میں آجائے گی ۔لیکن اگر اس سوچ کی بجائے یہ نظریہ بنا لیا کہ میرے مخالف موقف والے صحیح ہو ہی نہیں سکتے تو لامحا لہ آپ کو اپنے مخالف موقف والے کی عزت و حرمت کا لحاظ نہ ہوگا اور آپ ان کی اہانت کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے ۔(الامان و الحفیظ )جس سے اہل سنت و جماعت میں انتشار و افتراق کی کیفیت زور پکڑ لے گی جب آپ اپنے مخالف موقف والے پیر و مفتی و علامہ صاحب کی عزت کی بجائے ان کی بے ادبی کریں گے تو یقیناًمخالف موقف والے سنی عالم دین کے محبین ،متعلقین ،مریدین ، متوسلین بھی آپ کے پیر،استاذ ،مفتی و علامہ وغیرہا کی خوب عزت افزائی کریں گے ۔اور یوں اہل سنت و جماعت کی جمعیت کا ٹوٹنا آپ کی اس غلط روش کا ہی نتیجہ ہوگا۔لہذا فروعی اختلافی مسائل میں شدت سے باز آجائیں ۔اس وقت ہم سنیوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بد مذہب حضرات اپنے مشن کو بہت تیزی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں وہ طرح طرح کے ٹیکنالوجی ذرائع اپنا کر عام عوام کو اپنے جال میں پھانس رہے ہیں اور ہم لوگوں کو آپسی فروعی مسائل کے جھگڑوں سے ہی فرصت نہیں۔ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی اگر ہم اپنے تحقیقات کے کا دائرہ کار کو صحیح سمت کی طرف کر لیں تو بہت جلد اس بگڑتی ہوئی حالت پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔
نوٹ: خیال رہے ہم راسخ العقیدہ سنی مسلم ہیں۔اس مضمون کو لکھنے کا مقصد سنیوں کے آپسی فروعی اختلافی مسائل میں شدت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ختم کرنا ہے ۔جو شخص ضروریات دین یا ضروریات مذہب اہل سنت سے کسی بھی مسئلہ کا منکر ہو وہ کسی قسم کی عزت کا حقدار نہیں ہے اور نہ ہی ایسی شخص زیر بحث ہے لہذا میری اس تحریر کو ہر گز ہرگز صلح کلیت پر محمول نہ کیا جائے ۔دوسرا یہ کہ آئمہ کرام و فقہاء عظام کے اختلافات میں عوام کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ جس بھی مفتی ،فقیہ، عالم،کے قول پر عمل کرنا چاہے کریں ۔لیکن عام شخص اگر خود سے تحقیق کے جنون میں علماء سے اختلاف کرے گا تو جگہ جگہ ٹھوکریں کھائے گا جیسا اگر تیرنا سیکھے بغیر اگر کوئی سمندر میں کود پڑے تو بتائیں ایسے شخص کو کوئی عقل مند کہہ سکتاہے ؟ بلکہ ہو سکتا ہے اس کی جان بھی چلی جائے اسی طرح اگر کوئی بغیر دینی علوم پڑھے علماء و مفتیان کرام سے اختلاف کرے اور اپنے نفس کے پیچھے چلتے ہوئے خود سے مسئلے بتائے تو یہ بندہ 
گمراہی کا شکار بھی ہو سکتاہے ۔اس لئے اگر ہر کوئی اپنی حد میں رہے تو اس سے گلشن اہل سنت میں کوئی خرابی نہیں ہوگی ان شاء اللہ

[/urdu]
Please follow and like us:
0

Leave a Reply