Ala Hazrat Imam Ahmad Raza Or Qawali Bil Mazameer

اعلی حضرت اور قوالی مع مزامیر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
محترم قارئین کرام! میرے مضامین پڑھنے والے حضرات مجھ سے با خبر ہیں کہ میں الحمد للہ اہل سنت و جماعت میں پھیلے انتشار و افتراق کو ختم کرنے کے لئے پوری کوشش سے کام کر رہا ہوں۔چونکہ عوام میں بہت سے غلط باتیں مشہور کر دی گئی ہیں اس لئے عوام ِ اہل سنت آپس میں دست و گریبان ہے ۔محترم سنی بھائیو! اگر آپ غور کرو تو آپ جان لو گے کہ اس انتشار و افتراق کی سب سے بڑی وجہ فروعی مسائل میں شدت ہے اگر عوام کو فروعی مسائل کا بتا دیا جائے اور انہیں با خبر کر دیا جائے کہ فروعی مسائل میں شدت کرنا صحیح نہیں ہے تو کافی حد تک اس انتشار و افتراق پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔
انہی فروعی مسائل میں آج ہم ایک مسئلہ”قوالی مع مزامیر یعنی آلات موسیقی کے ساتھ قوالی” پر کلام کریں گے اور آپ سب کے سامنے ان حقائق کو لائیں گے
جن سے بہت سے حضرات بے خبر ہیں ۔

قوالی بالمزامیر اور اختلافِ علماء:
قارئین کرام اس مسئلہ میں علماء کے دوطبقات ہیں ایک وہ ہیں جو اس کے ناجائز و حرام ہونے کے قائل ہیں اور دوسرے وہ جو اس کے جائز ہونے کے قائل ہیں۔
طبقہ اول:
حرام کہنے والوں میں سب سے معروف و مشہور نام سیدی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجدد دین و ملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کا ہے ۔آپ کے نزدیک قوالی بالمزامیرحرام و ناجائز ہے۔اور برصغیر میں علماء کا بہت بڑا طبقہ اسی فتوی پر عامل ہے اور اسی فتوی کی اشاعت کرتا ہے ۔(لیکن اعلی ٰ حضرت اس مسئلہ کو فروعی سمجھتے ہیں اس لئے مخالف موقف والوں کو فاسق وغیرہ نہیں کہتے ۔)
دوسرا طبقہ:
حضرت عارف باللہ شیخ علامہ عبد الغنی نقشبندی قادری نابلسی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ اعلی ٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ سے بھی پہلے کے بزرگ ہیں اور اعلیٰ حضرت ان کو محققین علماء میں شمار کرتے ہیں اور اس ہستی کا نام اکابرین اسلام میں سنہرے حروف سے لکھا جاتا ہے ۔لہذا بہت سے علماء برصغیر پاک و ہند اور عرب دنیا کی اکثریت سماع بالمزامیر کے جواز کہ قائل ہیں۔ حضرت عارف باللہ علیہ رحمۃ کی کتاب کا نام “ایضاح الدلالات فی سماع الالات” ہے جس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے ۔
یہاں تک تو آپ کو معلوم ہوگیا کہ یہ مسئلہ اختلافی مسائل میں سے ہی ہے ۔جس میں دونوں طرف اکابرین اہل سنت ہیں ۔عقل مند تو اپنے آپ کو اسی وقت محتاط کر لیتا ہے کہ کوئی ایسا لفظ بھی ادانہ ہو جس سے کسی بھی موقف کے علماء کی توہین ہو۔لیکن کچھ لوگ جنہوں نے صرف چند کتابیں اردو کی پڑھی ہوتی ہیں وہ پھر مفتی اسلام بن کر علماء اسلام کے پیچھے لٹھ لے کے بھاگ نکلتے ہیں۔جی ہاں ہم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو قوالی بالمزامیر کے مسئلہ میں جواز کے قائل علماء کی توہین و تنقیص کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ان کو فاسق و فاجر ،مردود الشہادۃ ،ڈبہ پیر جیسے الفاظ ادا کرتے ہوئے بھی نہیں ڈرتے۔اللہ ان بھائیوں کو سمجھ دے ان ہی بھائیوں کی اصلاح کے جذبہ کے تحت انہی کے معتمد و مستند علماء (جو کہ ہمارے بھی ہیں)کےفتاوی و افعال پیش کر رہا ہوں کہ خدارا اس فروی مسئلہ اور دیگر اختلافی مسائل میں شدت سے باز آئیں۔
سب سے پہلے تو اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ کے صاحبزادے مفتی اعظم ہند مولانا مصطفی ٰ رضا خان علیہ رحمۃ کا فتوی پیش کرتا ہوں۔تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کی تربیت اپنی اولاد کو کیا ہے ۔
آپ لکھتے ہیں کہ
“قوالی مع مزامیر ہمارے نزدیک ضرور حرام و ناجائز و گناہ ہے اور سجدہ تعظیمی بھی ایسا ہی۔ان دونوں مسئلہ میں بعض صاحبوں نے اختلاف کیا ہے اگرچہ وہ لائق التفات نہیں۔مگر اس(اختلاف)نے ان مبتلاؤں کو حکم فسق سے بچا دیا ہے ۔جو ان مخالفین کے قول پر اعتماد کرتے اور جائز سمجھ کر مرتکب ہوتے ہیں اگرچہ شرعاً ان پر اب دہرا الزام ہے ایک ارتکاب حرام م دوسرا اسے جائز سمجھنے خلاف قول صحیح جمہور چلنے کا۔”
(فتاوی مصطفویہ صفحہ 456)
اس عبارت کو غور سے پڑھیے اور بار بار پڑھیئے کہ باوجود قوالی بالمزامیر کی حرمت کے قائل ہونے کے قوالی بالمزامیر سننے والوں پر حکم فسق(یعنی فاسق کہنے ) نہیں دیا ۔یہ ان کے اختلاف کا احترام ہی تو تھا۔اب آخری جملہ بھی قابل توجہ ہے جس میں دہرے الزام کا ذکر ہے ۔دیکھئے مفتی اعظم ہند علیہ رحمۃ نے صرف الزام کہا ہے یہ نہیں کہا کہ ان پر حرام کاری ثابت ہوگئی۔کیونکہ الزام وہیں ہوتا ہے جہاں یقین نہ ہو ۔اسی لئے مجرم جرم ثابت ہونے سے پہلے ملزم ہی کہلاتا ہے مجرم نہیں کیونکہ ثبوت سے پہلے اس پرصرف الزام تھا ۔تو یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ علماء اہل سنت کا جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو جائے تو یقینی بات کوئی نہیں کی جا سکتی کہ میں ہی حق پر ہوں کیونکہ ہو سکتا ہے ہمارا مدمقابل حق پر ہو اور ہم خطا پر۔اسی لئے شہزادہ اعلی حضرت علیہ رحمۃ نے صرف الزام کہا ۔
یہ ایسا ہی ہے کہ اگر کوئی ویڈیو کو حرام کہنے والے مفتی ِ اہل سنت جیسا کہ تاج الشریعہ دامت برکاتھم العالیہ یہ کہیں کہ ویڈیو بنانا حرام ہے جو اسے جائز کہے اس پر دہرا الزام ہے ایک تو مرتکب حرام ہونا اور دوسرا حرام کو جائز کہنا۔۔۔۔۔اسی طرح یہ مثال ہر اختلافی مسئلہ میں لی جا سکتی ہے ۔حرمت کے قائل کا الزام ہی ہوگا جواز کے قائل پر چاہے وہ قوالی بالمزامیر کا مسئلہ ہو یاویڈیو کا یا لاؤڈ سپیکر پر نماز کے ہونے یا نہ ہونے کا۔
اب تھوڑی سی سمجھ والے کے لئے اتنا مضمون بھی کافی ہے لیکن کچھ بھائیوں پر مزید اتمام حجت کرنے کے لئے فعل اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ بھی پیش کر دیتا ہوں تاکہ کہیں شیطان ان بھائیوں کو بہکا نہ دے کیونکہ ہو سکتا ہے شیطان دل میں وسوسہ ڈال دے کے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کا موقف درست ہے ان کے بیٹے ان کی راہ سے ان کے موقف سے ہٹ گئے(معاذ اللہ)لہذا ذرا فعل اعلیٰ حضرت پر معتبر گواہی بھی سن لیجئے ۔گواہی تبھی قبول کی جاتی ہے جب گواہ مستند ہو ثقہ ہو لہذا پہلے گواہ کا بھی تھوڑا تعارف سن لیجئے تاکہ کسی قسم کا کوئی شبہ نہ رہے ۔
نائب مفتی اعظم ہند علامہ شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ :
حضرت علامہ شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ ہند کے بہت بڑے عالم و مفتی ہیں ۔آپ اکابرین اہل سنت میں شمار ہوتے ہیں ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ رحمۃ کے بعد آپ کے فتاوی کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔صاحب بہار شریعت خلیفہ اعلیٰ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اور شہزادہ اعلیٰ حضرت مفتی اعظم ہند علامہ مصطفی رضاخاں علیہ رحمۃ کو اعلیٰ حضرت نے اپنے زندگی میں ہی قاضی اسلام و مفتی اسلام قرار دیا تھا۔ان دونوں بزرگوں سے فیض یافتہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ ہیں۔14 ماہ تک صاحب بہار شریعت علیہ رحمۃ کی خدمت میں رہ کر فتاوی دیئے اور 11 سال تک آپ نے شہزادہ اعلیٰ حضرت حضورمصطفی رضا خاں علیہ رحمۃ کی خدمت میں رہ کر فتاوی نوریسی کی مشق کی۔حضرت مفتی صاحب نے 50 ہزار فتاوی بریلی شریف میں رہ کر دیئے جن میں سے 20 ہزار پر تصدیق حضور مفتی اعظم ہند علیہ رحمۃ کی ہے اسی وجہ سے علامہ صاحب کو نائب مفتی اعظم ہند کہا جاتا ہے ۔امید ہے کہ گواہ کا یہ مختصر تعارف کافی ہوگا اب کوئی ان کی گواہی کو رد کرنے سے پہلے شدید شدت مند بھی ضرور سوچے گا۔
بہرحال اب کلام مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ پڑھیں:
“اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ نے مزامیر کے بارے میں یہی فتویٰ دیا ہے کہ یہ حرام ہے اور اس میں کوئی رعایت نہیں برتی ہے بحمدہ تبارک وتعالیٰ اس خادم کا بھی یہی فتوی ہے (یعنی مفتی شریف الحق امجدی بھی قوالی بالمزامیر کو حرام قرار دیتے ہیں)اور دلائل شرعیہ کی روشنی میں یہی حق ہے ۔مگر ساتھ ہی ساتھ اس کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ہمارے حضرات کچھوچھہ مقدسہ مزامیر کے ساتھ قوالی سنتے ہیں۔شیخ المشائخ شبیہ غوث اعظم مولانا سید شاہ علی حسین صاحب اور ان کے فرزند ارجمند محبوب المشائخ حضرت مولانا سید احمد اشرف صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما بھی مزامیر کے ساتھ قوالیاں سنتے تھے اوریہ بات مجدد اعظم کے علم میں تھی اس کے باوجود ان دونوں بزرگوں کی اعلیٰ حضرت غایت درجہ تعظیم و تکریم فرماتے تھے ان دونوں کے لئے قیام تعظیمی فرماتے اور ان دونوں کی دست بوسی فرماتے ۔بلکہ ثانی الذکر کو اپنی خلافت سے بھی نوازا تھا ۔اعلی حضرت کہ دونوں صاحبزادگان حضرت حجۃ الاسلام ،حضرت مفتی اعظم ہند رحمہم اللہ تعالیٰ کا بھی یہی طریقہ تھا میں نے خود اپنی آنکھ سے دیکھا ہے کہ حضرت مفتی اعظم ہند،حضرت محدث اعظم ہند مولانا سید محمد رحمۃ اللہ علیہ کے لئے قیام تعظیمی فرماتے اور آپ کی دست بوسی فرماتے،اپنے یہاں جلسوں میں مدعو فرماتے ،ان کے ساتھ اسٹیج پر تقریر کراتے ،عرس وضوی میں یہی حال ہوتا۔
(فتاویٰ شارح بخاری جلد 2 صفحہ 277)
اللہ اکبر کیا نفیس کلام ہے یہ کلام تو واقعی چشم کشا ہے۔ذرا دیکھئے کتنی پیاری سیرت ہے ہمارے اکابرین کی ۔نا جانے فروعی مسائل میں شدت کرنے والے خود کو زیادہ خدا خوفی والا سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں تو ان علماء کے اختلاف کا احترام کریں اور ان کی انتہا درجہ کی تعظیم کریں ان کے لئے کھڑے ہوں ان کی دست بوسی کریں اور آج کے شدت پسند انہی بزرگوں کو فاسق و فاجر کہیں۔العیاذ باللہ تعالیٰ ۔
اگر قوالی بالمزامیر سننے والا پیر نہ بن سکتا تو اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کبھی بھی قوالی بالمزامیر سننے والے کو خلافت نہ دیتے ۔اگر یہ قوالی سننے والے علماء و مشائخ فاسق ہوتے تو اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کبھی بھی فاسق کی تعظیم نہ کرتے ۔
کلام آگے ہی بہت طویل ہوگیا ہے لہذا میں اپنی بات کو یہی ختم کرتا ہوں اور تمام سنی حضرات سے گزارش ہے کہ اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ کے اس چھپے ہوئے پہلو کو بھی عام کریں ورنہ انتشار و افتراق ہی یہ آگ ختم نہ ہوگی ۔آپ تمام حضرات ہمارے اس مشن میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ اہل سنت و جماعت دوہبارہ پھر شیر و شکر ہو جائیں اور متحد ہو کر بد مذہبوں اور کافروں کا رد کریں۔
اللہ تعالی ٰ سے دعاہے کہ اگر مجھ سے لکھنے میں کوئی کوتاہی ہو گئی ہو تو میں اللہ کے حضور توبہ و استغفار کرتا ہوں اہل علم اگر میرے کلام میں کہیں غلطی پائیں تو میری اصلاح فرمائیں ،جزاکم اللہ خیرا،آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

Please follow and like us:
0

Leave a Reply