Ahle Sunnat k Aapasi Furoi Ikhtilafi Masail Mey Shiddat Q

ahle sunnat k apasi furoi ikhtilafi masail

 بسم اللہ الرحمن الرحیم
موضوع:اہل سنت و جماعت کے آپسی فروعی اختلافات میں شدت کیوں؟
تحریر: علامہ شان رضا قادری۔۔۔۔۔۔۔

کسی نے مجھ سے پوچھا اہل سنت و جماعت کے آپسی فروعی اختلافات میں بعض لوگ اتنی شدت کیوں کرتے ہیں؟

تو میں نے عرض کیا کہ کم علمی اوربلاوجہ کی اندھی عقیدت۔
محترم قارئین کرام ! مسئلہ یہ ہے کہ کم علمی کے باعث جو شخص جس کا معتقد(ماننے والا) ہوتا ہے اس کی ہر بات کو حرف آخرسمجھتا ہے اور اس کے علاوہ کو جہالت پر محمول کرتا ہے اور مخالف موقف والے عالم کو خوب سبّ و شتم (گالی گلوچ)کرتا ہے کہ میرے شیخ یا میرے استاذکا کوئی ہم پلہ نہیں اس لئے انہوں نے جو کہا حق اور باقی سب باطل ہے اوران صاحبوں کا یہ رویہ اہل سنت و جماعت کی جمعیت کے منافی ہے۔
حالانکہ مسائل تین طرح کے ہوتے ہیں:
۱۔ضروریات ِدین
۲۔ضروریات مذہب اہل سنت
۳۔فروعی اجتہادی مسائل

پہلی دونوں قسموں میں مسلمان کو اپنے حق پر ہونے کایقین ہوتا ہے لیکن آخری قسم میں یقین نہیں بلکہ حق پر ہونے کا صرف ظن و گمان ہوتا ہے اور مدمقابل کے حق پر ہونے کا احتمال بھی۔
لیکن کم علمی کے باعث لوگ ان مسائل میں بھی یقین کو لے آئے جس کی وجہ سے مد مقابل کے حق پر ہونے کا احتمال بھی جاتا رہااور جب سامنے والے کے حق پر ہونے کا احتمال ہی نہ ہوتو سامنے والے کے موقف کا کیونکر احترام ہو؟اور جب احترام ہی نہ ہو تو شدت کیونکر نہ ہو؟
میری اس گفتگو سے کوئی بھی اصول پڑھا ہوا شخص اختلاف نہیں کرے گا کیونکہ اصول کی ابتدائی کتب میں ہی یہ سب کچھ لکھا ہے ۔
بہرحال ان شدت پسند صاحبوں کی خدمت میں دردمندانہ التجاء ہے کہ حضرات آپ کا یہ طریقہ بالکل بھی درست نہیں اور نہ ہی ہمارے آئمہ کی تعلیمات کے مطابق ہے ۔کیونکہ ہمارے جید علماء و اکابر نے تو فرمایا ہے کہ کتابوں میں عصمت(غلطی کا نہ ہونا)صرف قرآن کے ساتھ خاص ہے۔سوائے گنبد خضراء کے مکین(یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ہر شخص کی بات کو لیا بھی جاتا ہے اور رد بھی کیا جاتا ہے ۔
مطلب یہ کہ اگر کسی عالم کی کوئی تحریرراجح ہو تو اس کو مان لیا جاتا ہے اور اگر خلاف تحقیق و جمہور ہوتو چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اس مسئلہ پر اہل سنت و جماعت کے اکابرو مستند شخصیات کی گواہی پیش خدمت ہے :
علامہ علائو الدین حصکفی لکھتے ہیں:
’’و یابی اللہ العصمۃ لکتاب غیرکتابہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی کتاب( قرآن مجید)کے سوا ہر کتاب کی عصمت کا انکار فرماتا ہے۔علامہ شامی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز کے سوا کسی کتاب کے لئے عصمت کو مقرر نہیں کیا یا کسی اور کتاب کی عصمت پر راضی نہیں ہے،یہ صرف اسی کتاب کی شان ہے جس کے حق میں فرمایا:
لایاتیہ الباطل من بین یدیہ و لا من خلفہ(حم السجدۃ ۴۲) اس کتاب میں باطل سامنے سے آسکتا ہے نہ پیچھے سے ۔سو قرآن کے علاوہ دوسری کتابوں میں خطائیں اور لغزشیںواقع ہوئی ہیں،کیونکہ وہ انسان کی تصنیفات ہیں اور خطا اور لغزش انسان کی سَرِشت (فطرت )ہے ۔
علامہ عبد العزیز بخاری نے اصول بزدوی کی شرح میں لکھا ہے کہ بویطی نے امام شافعی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ امام شافعی نے کہا میں نے اس کتاب کو تصنیف کیا ہے ،میں نے اس میں صحت اور صواب(یعنی دُرستَگی) کو ترک نہیں کیا،لیکن اس میں ضرور کوئی نہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت کے خلاف ہوگی ،اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا(النساء ۸۲) اور اگر قرآن اللہ کے غیر کی جانب سے ہوتا تو لوگ اس میں ضرور بہت اختلاف پاتے۔
لہٰذا تم کو اس کتاب میں جو بات کتا ب اللہ ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ملے اس کو چھوڑدو،کیونکہ میں کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی طر ف رجوع کرنے والا ہوں مزنی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام شافعی کی کتاب ’’الرسالہ‘‘اَسی (۸۰)مرتبہ پڑھی اور ہر مرتبہ امام شافعی اس میں کسی خطاء پر مطلع ہوئے‘بالآخر امام شافعی نے فرمایا اب چھوڑ دو‘اللہ تعالیٰ اس بات سے انکار فرماتا ہے کہ اس کی کتاب کے سوا اور کوئی کتاب صحیح ہو۔
(ردالمحتار جلد ا صفحہ ۲۶ مطبوعہ استنبول)
سیدی اعلیٰ حضرت مجدد ِ دین و ملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ،امام شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ رحمۃ کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں :
ــ’’شاہ صاحب(شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ)سے اس مسئلہ میں غلطی ہوئی،اور وہ نہ فقط فتاوٰی بلکہ تفسیر عزیزی میں بھی ہے اور نہ ایک ان کا فتاوٰی بلکہ کہ کسی بشر غیر معصوم (غیر نبی)کی کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں سے کچھ متروک نہ ہو ۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ جلد ۲۰ صفحہ ۲۹۶)
ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
’’اور کامل حجت اللہ کے لئے ہی ہے،ہر شہسوار کو گرنا اور ہر تلوار کند ہونا ہے اور ہر عالم کو لغزش کا سامنا ہے۔۔امام دارالہجرت عالم مدینہ سیدنا امام مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا ہے کہ ہر عالم کا قول ماخوذ (لیا)بھی ہوسکتا ہے اور مردود(رد) بھی ما سوائے اس قبر کے مکین ﷺ کے‘‘
(فتاویٰ رضویہ جلد ۱۰ صفحہ ۱۹۴)
مزید اس سلسلہ میں رہنمائی فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’البتہ سیدنا امام مالک رضی اللہ عنہ وغیرہ کا ارشاد ــ’’کل ماخوذمن قولہ الخ‘‘سوائے قرآن عظیم کے سب کتب کو شامل ہے نہ اس سے ہدایہ درمختاد مستثنی،نہ فتوحات و مکتوبات وملفوظات۔
(فتاوی رضویہ جلد ۲۶ صفحہ ۵۷۷)
علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ رحمۃ ،علامہ شامی علیہ رحمۃ اور اعلیٰ حضرت مجد د اعظم امام احمد رضا خان علیہ رحمہ کے ان فرامین سے اظہر من الشمس ہوگیا کہ قرآن کے علاوہ کوئی ایسی کتاب نہیں جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو اور غیر نبی کے قول کو لیا بھی جاتا ہے اور رد بھی کیا جاتا ہے،
کیا ان اقتباسات کو پڑھنے کے بعد بھی کوئی اپنے شیخ یا پیر یا پسندیدہ عالم کو عصمت کے مقام پر فائز کرنے کی جسارت کر سکتا ہے ؟
کہ میرے پیر ،شیخ ،استاذ کی ہر بات کو لیا جاتا ہے ؟
کیا امام مالک جیسے عظیم مجتہد مطلق کے مقابلے میں ان صاحبوں کے اس بے بنیاد دعوی کی کوئی وقعت ہوگی؟
بہرحال قارئین کرام آپ نے ملاحظہ فرما لیا کہ ہمارے اکابر کا اس حوالے سے موقف کیا ہے اور آج کہ ان کم علم صاحبوں کا طرز عمل کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ عالیشان میں التجاء ہے کہ اے میرے مالک و مولا ہم اہل سنت و جماعت میں اتحاد نصیب فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply