اللہ کہاں ہے؟کیا اللہ جسم سے پاک ہے؟

ALLAH ka jism kiun Nahi?ALLAH jism sey paak?

اللہ کہاں ہے؟کیا اللہ عرش پر ہے؟ اللہ کو اوپر والا کہنا کیسا؟
تحریر: علامہ شان رضا قادری
عقیدہ
اللہ جسم و جسمانیات(یعنی جسم کی خصوصیات جیسے،چڑھنا اٹھنا بیٹھنا ،جگہ گھیرنا وغیرہا) سے پاک ہے۔


دلیل:
اللہ رب العزت اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے کہ
اَللہُ الصَّمَدُ ۚ ﴿۲﴾۲
اللہ بے نیاز ہے(یعنی سب اس کے محتاج ہیں وہ کسی کا محتاج نہیں)
(سورۃ الاخلاص آیت 2)
اسی لئے ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ ہر قسم کی محتاجی سے پاک ہے۔
:::اللہ کے لئے جسم ماننا :
محترم قارئین اگر کوئی اللہ کے لئے جسم مانے ،یا اللہ کے لئے وہ خصوصیات مانے جو اجسام کی ہوتی ہیں جیسے اوپر،نیچے دائیں بائیں آگے پیچھے ہونا ،اسی طرح چڑھنا ،بیٹھنا،چلنا ،رکنا،وغیرہا تو اللہ کا محتاج ہونا لازم آتا ہے ۔
دلیل:
اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ ہر وہ شئے جو مرکب ہو،جسم رکھتی ہو،ہیئت (شکل و صورت)رکھتی ہو وہ مختلف اجزاء کا مجموعہ ہوا کرتی ہے۔مثلاً چائے
چائے ایک مرکب ہے اور اس کے اجزاء ،دودھ چینی پتی اور پانی ہیں۔یہ تمام اجزاء ملتے ہیں تو چائے بنتی ہیں وگرنہ نہیں۔دوسرے لفظوں میں ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ چائے اپنے وجود میں محتاج ہے،اپنے ان اجزاء (دودھ چینی پتی اور پانی )کی۔یہ اجزاء ہیں تو چائےہےاگر یہ اجزاء نہ ہوں تو چائے بھی نہیں پائی جائے گی۔
لہذا معلوم ہوگیا کہ ہر کل (مرکب ،جسم )جز کا محتاج ہوتا ہے،یعنی اجزاء ہوتے ہیں تو کل ہوتا ہے ،اگر اجزاء ہی نہ ہو تو کل بھی نہیں۔اسی لئےیہ تسلیم شدہ بات ہے کہ ہر مرکب محتاج ہوتا ہے۔
قارئین کرام اب اس قانون کو مدنظر رکھئیے کہ ہر مرکب اپنے اجزاء کا محتاج ہوتا ہے۔اور پھر اس اسلامی عقیدہ کو سمجھئیے۔
جیسا کہ بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ جسم (مرکب) سے پاک ہے تو ایسا اس لئے کہا گیا کہ اگر اللہ کے لئے جسم مان لیا کہ اللہ کا بھی جسم ہے تو اس طرح اللہ کی ذات بھی مرکب ٹھہرے گی۔کیونکہ ہر جسم مختلف اجزاء سے مل کر بنتا ہے۔اور جب اللہ کی ذات مرکب ٹھری تو اللہ کی ذات اپنے اجزاء کی محتاج ہوگی ۔جیسا کہ بیان ہوا کہ ہر مرکب اپنے اجزاء کا محتاج ہوتا ہے یعنی وہ اجزاء پائے جائیں تو مرکب پایا جائے گا ورنہ نہیں جیسا کہ چائے کی مثال سے واضح کر دیا گیا۔
اسی طرح بلا تشبیہ و تمثیل اگر اللہ کو جسم مانا یعنی مرکب مانا تو اللہ کی ذات  مختلف اجزاء کا مجموعہ ٹھری اور جب اللہ کی ذات کے لئے اجزاء مان لئے تو اللہ کو اجزاء کا محتاج مان لیا کہ یہ اجزاء پائے جائیں گے تو اللہ کی ذات پائی جائے گی ورنہ نہیں ۔(لاحول ولاقوۃ الاباللہ)
قارئین کرام ملاحظہ فرمایا آپ نے اس ایک غلط نظریہ (اللہ کے لئے جسم ماننا،یا جسم کی خصوصیات ماننا)سے کس قدر خرابی پیدا ہوتی ہے۔کہ اللہ وحدہ لاشریک جوبے نیاز ہےجو کسی کا محتاج نہیں بلکہ ساری خلقت اسی کی محتاج ہے اسی کریم رب کو محتاج ماننا لازم آتا ہے۔جو کہ سراسر تعلیمات اسلامیہ کے خلاف ہے۔
اسی لئے علماء اسلام بزرگان دین نے یہی عقیدہ قرآن و حدیث سے بیان فرمایا کہ چونکہ اللہ الغنی ہر طرح کی محتاجی سے پاک ہے ،اسی لئے اللہ کا جسم ماننا غیر اسلامی نظریہ ہے کیونکہ اس سے اللہ کی ذات محتاج قرار پاتی ہے جو کہ قرآن کے انکار کے مترادف ہے۔
آخر میں ایک آیت مزید بیان کرتا ہوں تاکہ مسئلہ مزید واضح ہو جائے ۔
اللہ خالق ہے اور باقی تمام مخلوقات ۔اللہ غنی ہے اور تمام مخلوقات اس کی محتاج ۔اسی لئے اللہ نے واضح طور پر قرآن میں فرما دیا:
لَیۡسَ کَمِثْلِہٖ شَیۡءٌ ۚ
اس(اللہ) جیسا کوئی نہیں (سورۃ الشوریٰ آیت 11)
یعنی اللہ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے ،اللہ مخلوق کی طرح نہیں اور نہ مخلوق میں کوئی اللہ کی طرح ہے،جب مخلوق جسم والی ہے تو اللہ جسم والا کیسے ہو سکتا ہے ؟اورجب اللہ رب العزت جسم سے ہی پاک ہے تو پھر اللہ کے لئے جسم کی خصوصیات ماننا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے ؟
اس لئے ائمہ کرام نے فرمایا کہ
اللہ عزوجل کو اوپر والا کہنا یا (یہ کہنا کہ اللہ اوپر آسمان میں بیٹھا ہے )کفر ہے کیونکہ یہ اوپر نیچے دائیں بائیں آگے پیچھے ہونا،اسی طرح اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا یہ جسم کی خصوصیات ہیں اور اشارہ جسم کی طرف کی جاتا ہے جب اللہ جسم سے ہی پاک ہے تو اس کی طرف اشارہ کرنا کیسے درست ہو سکتاہے ؟ جب اللہ کا جسم ہی نہیں تو اللہ کو اوپر والا کہنا یا اللہ کے لئے بیٹھنے کا لفظ استعمال کرنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے ؟
المختصر
اسلامی عقیدہ کچھ یوں ہے کہ
اللہ تعالیٰ مخلوق کی مشابہت سے پاک ہے۔اسی لئے اللہ کا جسم بھی نہیں اور جب جسم نہیں ہے تو جسم کی خصوصیات (اوپر نیچے دائیں بائیں آگے پیچھے ہونا،یا چلنا پھرنا،اٹھنا بیٹھنا وغیرہا)سے بھی پاک ہے۔لہذا اللہ کو اوپر والاکہنا بھی غیر اسلامی نظریہ ہے کہ اس طرح کہنے سے لازم آتا ہے کہ جیسے اللہ کا بھی کوئی جسم ہے جس کی طرف اشارہ کیا جارہا ہے،حالانکہ اللہ کا تو جسم ہی نہیں۔لہذا اللہ اوپر آسمانوں میں ہے کہنے کی بجائے یہ کہنا چاہئیے کہ اللہ اپنی شان کے مطابق موجود ہے ،وہ کسی اشارے کا محتاج نہیں کے اس کی طرف اشارہ کیا جائے۔ )
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور سچا پکا عاشق رسول بنائے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم

Please follow and like us:
0

Leave a Reply