اہل سنت اور وہابی مسلک کے مشہور اختلافی مسائل

اہل سنت اوروہابی مسلک کے مشہور اختلافی مسائل اور حکم شرعی:
تحریر:  علامہ شان رضا قادری
Allama Shan E Raza Qadiri

محترم قارئین کرام فیس بک پر ایک دوست نے سوال میں پوچھا کہ اہل سنت و جماعت اور وہابی دیوبندی مسلک والوں کے درمیان مشہور اختلافی مسائل(عقیدہ حاضرو ناظر،کلی علم غیب ،مسئلہ نورانیت مصطفی اور غیر اللہ سے مدد مانگنا) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟کیا یہ قطعی مسائل ہیں کہ ان کا منکر کافر و یا گمراہ ہو؟اگر ان کا منکر کافریا گمراہ نہیں ہوتا اور یہ ظنی مسائل ہیں تو پھر سنی حضرات ان مسائل میں مخالف موقف والوں کا سختی سے رد کیوں کرتے ہیں؟ان پر فتوی بازی کیوں کرتے ہیں؟تو میں نے ان بھائی کے جواب میں ایک مختصر سی تحریر لکھی جو اب آپ کے سامنے
پیش کر رہا ہوں
=================
محترم قارئین کرام!مسئلہ حاضر و ناظر،کلی علم غیب،مسئلہ نورانیت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ،استمداد از بزرگان دین ،قیام میلاد و مروجہ جشن میلاد وغیرھا مسائل کو کسی بھی محقق عالم اہل سنت نے قطعی مسائل میں شامل نہیں کیا ہمیشہ ان کو “ظنیات محتملہ” میں شمار کیا ہے۔یعنی جانب خلاف کی گنجائش ان مسائل میں نکل سکتی ہے۔یقیناً اس جہت سے نظریات ظنی کہلائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا وہ یہ کہ یہ فروعی مسائل اس وقت “اصول” کے درجہ میں چلے جاتے ہیں جب ان نظریات کے ماننے والوں کی”تکفیر” کی جاتی ہے انہیں مشرک و کافر تک کہہ دیا جاتا ہے چونکہ اس صورت میں ایک غیر کفر بات کو کفر بتایا جا رہا ہوتا ہے یعنی مسلمان کو کافر کہا جاتا ہےتو بمطابق حدیث جو کسی مسلم کو کافر کہے تو کفر کا فتویٰ واپس کہنے والے پر لوٹتا ہے اور ایسے شخص پر مذہب صحیح و معتمد کے مطابق کفر لازم ہو جاتا ہے یعنی اس پر توبہ و تجدید ایمان لازم ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خلاصہ کلام :
یہ ہے کہ یہ مسائل ایک اعتبار سے ظنی ہیں اور دوسرے اعتبار سے قطعی۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ان نظریات کا منکر دو طرح کا ہو سکتا ہے
۔۱۔ان نظریات کا انکار دلیل کی بنا پر کرے مگر ان نظریات کے ماننے والے پر کوئی سخت حکم نہ لگائے
۔۲۔ان نظریات کا انکارکرنے والا انکار کے ساتھ ساتھ ان نظریات کے ماننے والوں پر کفر و شرک کا فتوی لگائے۔

پہلی صورت میں منکر پر کفر یا گمراہی کا حکم نہیں ہوگا مگر دوسری صورت میں ایک صحیح العقیدہ مسلمان کوکافر کہنے کی بنا پر کفر واپس کہنے والے پر لوٹے گا ۔

لہذا جب محقق سنی عالم ان مسائل میں طبع آزمائی کرتے ہوئے دلائل شرعیہ کو بیان کرتا ہے اور مخالفین کا رد کرتا ہے تو اس وقت جو شدت رد میں نظر آتی ہے وہ ان مسائل کی “ظنی جہت” کی بنا پر نہیں بلکہ “اصولی جہت ” کی بنا پر ہوتی ہے۔

Please follow and like us:
0

Leave a Reply